اسلامی جمہوریہ پاکستان

maxresdefault-1

  قیام پاکستان کا پسِ منظر

برصغیر میں مسلمانوں نے صدیوں تک حکومت کی لیکن انہوں نے یہاں کی آبادی کو زبردستی مسلمان بنانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے سے پہلے، قائم ہونے کے بعد اور حکومت ختم ہونے پر بھی غیر مسلموں کی ہی اکثریت رہی۔ برطانوی استعمار نے برصغیر کا اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا،  اس لیے وہ قدرتی طور پر مسلمانوں کو اپنا حریف سمجھتے تھے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کےبعد برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور برصغیر پاک و ہند مکمل طور پر برطانوی نوآبادی بن گیا۔ برطانوی حکومت نے مسلمانوں کے تمام اہم سیاسی، دفاعی اور معاشرتی ادارے یا تو ختم کر دیے یا پھر ان کو غیر مؤثر کر دیا جس کے نتیجے  میں حاکم نہ صرف محکوم بن گئے بلکہ بے اثر بھی ہوگئے اور ان کی تحقیر بھی ہوئی۔ اس ساری صورت حال نے برصغیر پاک وہند میں اسلامی تہذیب و تمدن پر منفی اثر ڈالا اور مسلمان پس ماندگی کا شکار ہوگئے۔ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب برطانوی استعمار نے برطانوی جمہوریت کے ماڈل کو برصغیر میں نافذ کرتے ہوئے برصغیر کو چھوڑنے کے ارادے کا اظہار کیا تو اس موقع پر  برصغیر پاک وہند کےمسلمانوں نے ہندو اکثریت کی ہمیشہ کے لیے حکمرانی سے بچنے اور برصغیر پاک و ہند میں اسلامی تہذیب و تمدن کے احیا کے لیے مسلمانوں کی علیحدہ ریاست قائم کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ اس ریاست کا تصور علاّمہ محمد اقبال نے دیا اور اس تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہی کی تجویز پر قائداعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد شروع کر دی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان ایک اسلامی مملکت کے طور پر معرضِ وجودمیں آگیا۔ ریاستِ مدینہ کے بعد یہ واحد مثال تھی جس میں اسلامی تہذیب و تمدن کے احیاء کے لیے ایک نئی منفرد مسلمان ریاست معرضِ وجود میں آئی۔

قیام پاکستان

برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے پاکستان اس لیے قائم کیا تھا تاکہ ایک ایسے جدید ، ترقی یافتہ اور متمدن اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکے جو کہ دور جدید میں اسلام کی آفاقی تعلیمات کا عکس ہو۔ پاکستانی معاشرے نے یہ ثابت کرنا تھا کہ آج بھی انسانیت کو اسلام کی ضرورت ہے اور اسلام کی آفاقی اقدار  پر مشتمل ایک جدید، ترقی یافتہ اور مہذب معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ اسی خواہش کو علاّمہ محمد اقبال نے فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے پیرائے میں بیان کیا تھا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد قائداعظم اور ان کے رفقاء نے ایک ایسے پاکستان کے لیے جدوجہد شروع کر دی جو جمہوری، اسلامی اور ترقی یافتہ ہو۔ ان کا خیال تھا کہ اس پاکستان میں Positivism  اور Common Lawپر مبنی قانونی نظام قرآن و سنت کے ماتحت ہو اور اس طرح ایک جدید ریاست میں اجتہاد کے ذریعے ایسا ترقی یافتہ قانونی نظام قائم کیا جائے جو جدید اسلامی قانون کا پرتو ہو اور اس کی مدد سے مملکت خداداد میں ایک ایسامعاشرہ قائم ہو جس میں امن، سکون ، سلامتی، اقتصادی ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی کے اسلامی اصولوں کا رواج ہو، جبکہ غیر مسلموں اور معاشرے کے کمزور طبقوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو۔ مزید یہ کہ علاقائی ثقافتوں اور زبانوں کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایک مرکزی پاکستانی اسلامی تہذیب کا حصہ بنایا جائے۔ قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں میں اگرچہ پاکستان کو کئی چیلنجز درپیش ہوئے، تقسیم پُر امن ہونے کے بجائے خون ریز ہوگئی،  پاکستان کے کئی علاقے ہندوستان کے حوالے کر دیے گئے، کشمیر پر ہندوستان نے قبضہ کر لیا، پاکستان کو اس کے اقتصادی اور مالیاتی حقوق سے محروم کر دیا گیا، لیکن بانیانِ پاکستان کی مسلسل جدوجہد اور تحریک پاکستان کے کارکنوں کی لازوال قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان نے اپنے مسائل حل کرنا شروع کر دیے اور وہ دن بدن مستحکم ہوتا چلا گیا۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان نے ۱۲؍ مارچ ۱۹۴۹ء کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرار دادِ مقاصد پیش کی۔ یہ قراردادِ مقاصد  اب دستور پاکستان کا باقاعدہ حصہ ہے اور اس میں طے کر دیا گیا کہ پاکستان میں اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کا ہے اور ریاست پاکستان اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ اس اختیار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کی پابند ہوگی۔ قرارداد مقاصد میں دستور پاکستان کے لیے ایک فریم ورک بھی فراہم کر دیا گیا اور طے کر دیا گیا کہ جمہوریت، آزادی رائے، مساوات ، برداشت اور سماجی انصاف جیسے وہ اصول، جو اسلام نے دیے ہیں وہ اس دستور کی بنیاد ہوں گے تاکہ پاکستان کے  مسلمان قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی بسر کر سکیں۔ قرارداد مقاصد میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی اور طے کر دیا گیا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کا رتبہ برابر ہوگا اور سب کے لیے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ہوں گے۔ معاشرتی، معاشی اور سیاسی جدوجہد کے یکساں مواقع ہوں گے اور قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے ، جبکہ اظہار رائے کی آزادی، ایمان، عقیدے اور عبادات پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہوگی، بشرطیکہ یہ سب کچھ قانونی دائرے کے اندر اور عمومی اخلاقی قواعد کے مطابق ہو۔ قرارداد مقاصد میں طے کر دیا کہ ریاست پاکستان اور اس کے باشندوں نے ایسی جدوجہد کرنی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان نہ صرف ترقی کرے بلکہ قوموں کی برادری میں ایک قابل احترام ملک کی حیثیت کا جائز مقام حاصل کرے تاکہ بین الاقوامی امن و ترقی اور انسانی خوشیوں کے حصول میں یہ اسلامی ریاست اپنا حصہ ڈال سکے۔

  اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کامیابیاں

موجودہ دنیا میں پاکستان وہ ملک ہے جہاں اسلامی اصولوں کے مطابق سب سے زیادہ قانون سازی ہوئی ہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان کا ۱۹۷۳ء کا آئین ہے جس کا ابتدائیہ قرارداد مقاصد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اس آئین میں اسلامی شقوں کو باقاعدہ دستور کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی  ہےکہ پاکستان کا کوئی قانون غیر اسلامی نہیں ہوگا اور موجودہ قوانین کو بھی اسلامی اصولوں کے تابع کیا جائے گا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی شرعی عدالت، اسلامی نظریاتی کونسل اور ادارہ تحقیقات اسلامی کے قیام پر خصوصی توجہ دی گئی۔پاکستان کی کامیابی اور شاندار مستقبل کا ضامن اس کا یہی متفقہ دستور  ہے۔ یہ دستور اسلامی بھی ہے اور جدید بھی اور پاکستان کے تمام طبقات کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ ۱۹۷۳ء کا دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مستقبل کا لائحۂ عمل ہے۔

پاکستان کے بعض دشمن عناصر معصوم نوجوانوں کو اس نعرے سے گمراہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں طاغوتی نظام رائج ہے اور حکومت کا ڈھانچہ اسلامی قانون کے مطابق نہیں ہے۔ یہ گمراہ کن فکر حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ قرارداد مقاصد کا ذکر ہو چکا ہے جو کہ پاکستان کی اسلامی اور جمہوری شناخت کی بنیاد ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کے ۱۹۵۶ء ،  ۱۹۶۲ء اور ۱۹۷۳ء کے دساتیر میں اسے اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا اور طے کر دیا گیا کہ پاکستان میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون نہیں بنے گا۔ پاکستانی قوانین کی قرآن و سنت سے مطابقت کو یقینی بنانے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل ۱۹۶۲ء کے دستور کی رو سے قائم کی گئی۔ ۱۹۹۷ء میں اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت پاکستان کو اپنی فائنل رپورٹ جمع کروائی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ۹۵ فیصد قوانین میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی چیز نہیں ہے جبکہ باقی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے کونسل نے متعدد سفارشات دی ہیں۔ کونسل کی رپورٹ کے مطابق قوانین کا ۹۵ فیصد اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اس لیے اس بنا پر پاکستانی قوانین  کو غیر اسلامی قرار دینا نہ صرف صریح گمراہی ہے بلکہ یہ پاکستان کے دستور سے لاعلمی کی دلیل بھی ہے۔

پاکستان کی بہت ساری کامیابیوں کے باوجود پاکستان کو ابھی وہ ہدف حاصل کرنا ہے جس کا تعین قرار داد مقاصد میں کیا گیا تھا۔ اس ہدف کو حاصل کرنے میں اس وقت بعض چیلنجز  درپیش ہیں جن کا ذکر حسب ذیل ہے۔



http://bit.ly/2K7hBq6 : :پیغامِ پاکستان  اسلامی جمہوریۂ پاکستان 



Narrative Against Terrorism: Paigham-e-Pakistan

اردو انڈکس پیغامِ  پاکستان 

English Index


Download  Links .. تفصیل ملاحضہ فرمائیں علماء کےنام اور ریمارکس